بھٹکل:11؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز) ریاستی ودھان سبھا انتخابات قریب ہوتےدیکھ کر بھٹکل ہوناور ودھان سبھا حلقہ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہورہی ہیں۔پھر ایک بار انتخابی میدان میں مقابلہ آرائی کےلئے تیار ی کرنےوالے رکن اسمبلی سنیل نائک اور سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا کو اپنی پارٹیوں کی اندرونی رسہ کشی جھٹکے دے رہی ہے جو کسی بھی وقت دھماکہ کی صورت اختیار کرنے کے امکانات ہیں۔
اس مرتبہ کے انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر ہرحال میں جیت کے لئے سرگرم منکال وئیدیا کو پارٹی کے اندر سے ہی روڑے اٹکائے جارہےہیں۔ منکال وئیدیا کی سفارش پر بھٹکل بلاک کانگریس صدر بنے وکیل سنتوش نائک پہلے جیسے نہیں ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔ منکال وئیدیا کے قریبی اور حمایتیوں کوپارٹی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی کوششیں پس پردہ جاری ہیں، یوتھ کانگریس صدر ، وئیدیا کے قریبی دیانند گُڈگی کو عہدے سے برخاست کرتےہوئے کائی کنی گرام پنچایت کے نائب صدر شری دھر نائک کے قریبی وشوناتھ شٹی کو صدر بنایاگیا ہے۔ اسی طرح کانگریس اقلیتی شعبہ کے ضلعی صدر عبدالمجید نے سوشیل میڈیا پر سنتوش نائک کےخلاف ایک آڈیو وائرل کرنے کے بعد صاف ظاہر ہورہا ہے کہ کانگریس کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ بلاک کانگریس صدر سنتوش نائک ، منکال وئیدیا اور وئیدیا کے ساتھ رہنے والے مقامی لیڈران کے خلاف کانگریس لیڈران کو ہی استعمال کیا جانا پارٹی میں ہنگامہ کا سبب بنتا جارہاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق رکن اسمبلی جےڈی نائک بھی بہت سرگرم نظر آرہےہیں۔ پریش میستا کےموت معاملے کو لےکر صدر سنتوش نائک نے اپنے حمایتیوں کے ساتھ بلائی گئی پریس کانفرنس میں منکال دئیدیا اور ان کے زیادہ تر قریبی کارکنان کا غائب رہنا بھٹکل کانگریس میں ایک نئی سیاسی گروہ بندی کی علامت بتائی جارہی ہے۔
مضبوط ومستحکم کہلائی جانے والی بی جےپی کی حالت بھی بہت کمزور نظر آرہی ہے۔ گذشتہ 2018کے انتخابات میں کانگریس کے ساتھ کانٹے کے مقابلےمیں 5ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کرنےوالی بی جےپی میں اندرونی خلفشار اور انتشار ہے۔ سیلاب کے بعد ہی پارٹی استحکام کے لئے میدان میں اترے رکن اسمبلی سنیل نائک کو انہی کی پارٹی کے چند لیڈران روڑا بنتے جارہےہیں۔ سنگھ پریوار میں بھی رکن اسمبلی سنیل نائک کےخلاف بڑی سازش رچتےہوئے آئندہ انتخابات میں انہیں ٹکٹ سےمحروم کرنےکی کوششیں زوروں پرہیں۔ ذرائع کی مانیں تو حال ہی میں ہوناور کے ایک ہوٹل میں سنگھ پریوار خیمہ کے گریش پاٹل کی طرف سے منعقدہ میٹنگ میں رکن اسمبلی سنیل نائک کے مخالفین کو ترجیح دی گئی اور میٹنگ میں سنیل نائک کےخلاف الزامات کی بوچھار کردی گئی اس کو پارٹی کی سطح پر ترجیح دینا ، اس کا زندہ ثبوت ہے۔ دو روز قبل بھی ہوناور کی ایک سبھا میں سنیل نائک کےخلاف سیاہ جھنڈوں کی نمائش بھی اسی کا ایک حصہ مانا جارہاہے۔ اسی دوران بی جےپی کےاندرچلنے والی افواہوں پر دھیان دیں تو خود رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے ، سنیل نائک کو کنارے لگانےکی فراق میں ہیں۔ انہی حالات نے بی جےپی کی سیاسی سرگرمیوں کو ایک اور رخ پر ڈال دیا ہے۔ اسی پس منظر میں دیکھ سکتےہیں کہ مغربی گھاٹ تحفظ بورڈ کی صدارت پر فائز گوند نائک نے ہر طبقہ کی تہنیت کو قبول کرتےہوئے پس پردہ انتخابات پر نظرجمائے ہوئےہیں۔ اس کےساتھ ساتھ کاسکارڈ بینک کے سابق نائب صدر ایشورنائک ، اننت کمارہیگڈےکےنام پر ٹکٹ امیدواروں میں شامل ہونےکی کوشش میں ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ 3-4نئے چہرے بھی ٹکٹ کی خواہش لےکر آس لگائے ہوئےہیں۔ اس مرتبہ کے ریاستی انتخابات کے دوران 15-20ارکان اسمبلی کو ٹکٹ نہیں دیاجائےگا ،یہی خبر حلقہ میں ان سب سرگرمیوں کی اہم وجہ یہی بتائی جارہی ہے اسی وجہ سے پارٹی میں انتشار پیدا ہورہاہے۔اگلے دومہینوں تک کانگریس اور بی جےپی میں اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہیں تو پھر دونوں پارٹیوں میں بھونچال آسکتا ہے۔